مختصر جواب: عربی اور عبرانی بہت قریبی رشتہ دار ہیں۔ دونوں سامی زبانیں ہیں، دونوں تین حرفی مادوں سے الفاظ بناتی ہیں، اور بہت سے بنیادی الفاظ صاف طور پر ایک ہی لفظ ہیں: salām اور shalom ("سلامتی")، bayt اور bayit ("گھر")، anā اور ani ("میں")۔ لیکن یہ ایک دوسرے کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ ایک زبان بولنے والا دوسری میں جانے پہچانے الفاظ اور ڈھانچے پہچان لیتا ہے، مگر سیکھے بغیر عام گفتگو نہیں سمجھ پاتا۔ انہیں چچا زاد بہنیں سمجھیں، کچھ اردو اور پنجابی کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ دور۔
دونوں کے حروفِ تہجی بھی الگ ہیں۔ عبرانی میں 22 حروف ہیں جو الگ الگ لکھے جاتے ہیں، جبکہ عربی میں 28 حروف ہیں جو آپس میں جڑتے ہیں۔ دونوں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں اور عموماً اعراب (چھوٹے مصوتے) نہیں لکھتیں۔
اردو پڑھنے والوں کو یہاں بڑا فائدہ ہے: آپ "سلام"، "اسم"، "عین"، "کاتب"، "مکتب" اور "آمین" جیسے عربی الفاظ پہلے سے جانتے ہیں۔ نیچے کی مثالوں میں آپ ان کے عبرانی رشتہ دار فوراً پہچان لیں گے۔
ایک خاندان، الگ شاخیں
ماہرینِ لسانیات عربی اور عبرانی کو سامی خاندان میں رکھتے ہیں، آرامی، امہری اور مالٹی کے ساتھ۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے شجرے میں عبرانی آرامی کے ساتھ شمال مغربی سامی گروہ میں ہے، اور عربی اپنی بولیوں کے ساتھ اپنی الگ شاخ میں۔ مطلب یہ کہ ایک مشترک جدِ امجد، الفاظ بنانے کا ایک مشترک طریقہ، اور ہزاروں سال کا الگ الگ ارتقا۔
| عربی | عبرانی | |
|---|---|---|
| خاندان | سامی | سامی |
| حروفِ تہجی | 28 حروف، جڑے ہوئے | 22 حروف، الگ الگ |
| سمت | دائیں سے بائیں | دائیں سے بائیں |
| روزمرہ تحریر میں اعراب | عموماً نہیں لکھے جاتے | عموماً نہیں لکھے جاتے |
| حروف کی شکلیں | ہر حرف کی 4 تک شکلیں (اکیلی، شروع، درمیان، آخر) | 5 حروف کی لفظ کے آخر میں الگ شکل |
| زبان کا نام | العربية al-ʿarabiyya | עברית ivrit |
جدید عبرانی لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زبان ہے، زیادہ تر اسرائیل میں، اور عبرانی صدیوں سے یہودی عبادت اور علم کی زبان رہی ہے۔ عربی مراکش سے خلیج تک بہت سی بولیوں میں بولی جاتی ہے، اور جدید معیاری عربی (انگریزی میں) سب کی مشترک تحریری زبان ہے۔
الفاظ جو آپ پہچان سکتے ہیں
یہ روزمرہ الفاظ ایک ہی قدیم مادوں سے آئے ہیں۔ رومن املا بلند آواز سے پڑھیں تو خاندانی مشابہت فوراً سنائی دیتی ہے۔
| اردو | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| سلامتی، سلام | سلام salām | שלום shalom |
| گھر | بيت bayt | בית bayit |
| دن | يوم yawm | יום yom |
| آنکھ | عين ʿayn | עין ayin |
| نام | اسم ism | שם shem |
| سال | سنة sana | שנה shana |
| سر | رأس raʾs | ראש rosh |
| کتا | كلب kalb | כלב kelev |
| بیٹا | ابن ibn | בן ben |
| شاگرد، طالب علم | تلميذ tilmīdh | תלמיד talmid |
| آمین | آمين āmīn | אמן amen |
| ہفتہ (دن) / سبت | السبت as-sabt | שבת shabat |
ضمیریں اور ابتدائی گنتی بھی اتنی ہی قریب ہیں:
| اردو | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| میں | أنا anā | אני ani |
| تم (مرد سے) | أنتَ anta | אתה ata |
| تم (عورت سے) | أنتِ anti | את at |
| وہ (مرد) | هو huwa | הוא hu |
| وہ (عورت) | هي hiya | היא hi |
| ہم | نحن naḥnu | אנחנו anaḥnu |
| ایک | واحد wāḥid | אחת aḥat |
| دو | اثنان ithnān | שתיים shtayim |
| تین | ثلاثة thalātha | שלוש shalosh |
| چار | أربعة arbaʿa | ארבע arba |
| پانچ | خمسة khamsa | חמש ḥamesh |
عبرانی کی یہ گنتی وہ شکلیں ہیں جو سیدھی گنتی میں بولی جاتی ہیں۔ عربی میں "ایک" کے لیے أحد aḥad بھی ہے، جو عبرانی eḥad کے اور بھی قریب ہے۔
آوازوں کے قاعدے جو دونوں کو جوڑتے ہیں
یہ الفاظ ہو بہو ایک جیسے نہیں، کیونکہ وقت کے ساتھ ہر زبان نے کچھ آوازیں بدلیں۔ باقاعدہ نمونے جان لیں تو آپ اکثر کسی لفظ کو ذہن میں "بدل" سکتے ہیں:
| نمونہ | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| عربی s = عبرانی sh | سلام salām، اسم ism، سنة sana | שלום shalom، שם shem، שנה shana |
| عربی th = عبرانی sh | ثلاثة thalātha، ثور thawr (بیل) | שלוש shalosh، שור shor (بیل) |
| عربی لمبا ā = عبرانی o | salām، kātib (کاتب) | shalom، kotev (لکھنے والا، لکھتا ہے) |
| عربی aw = عبرانی o | yawm، thawr | yom، shor |
| عربی ay = عبرانی ayi یا e | bayt، ʿayn | bayit، ayin |
| عربی ḍ = عبرانی ts | ضحك ḍaḥika (وہ ہنسا) | צחק tsaḥak (وہ ہنسا) |
| عربی kh اکثر = عبرانی ḥ | خمسة khamsa | חמש ḥamesh |
بریٹانیکا بتاتی ہے کہ ان میں سے کچھ نمونے کہاں سے آئے۔ پرانی th اور dh آوازیں (جیسے عربی ث اور ذ کا اصل تلفظ) کنعانی زبانوں میں، یعنی عبرانی کی شاخ میں، ختم ہو گئیں اور س جیسی آوازوں میں مل گئیں، جبکہ کلاسیکی عربی نے انہیں محفوظ رکھا۔ عربی نے اس قدیم خاندان کی حلقی آوازیں بھی اپنے زیادہ تر رشتہ داروں سے بہتر سنبھالیں۔ اسی لیے عربی میں ث ذ ض ظ غ جیسے حروف ہیں جن کا عبرانی میں الگ حرف نہیں۔
عبرانی کی اپنی تبدیلی ہے: b، k، p کے حروف کسی مصوتے کے بعد نرم ہو کر v، kh (خ)، f بن جاتے ہیں۔ اسی لیے مادہ k-t-b سے عربی میں kataba بنتا ہے مگر عبرانی میں katav، اور "کتا" عربی میں kalb ہے مگر عبرانی میں kelev۔
جدید عبرانی عربی کے مقابلے میں کیسی سنائی دیتی ہے
کاغذ پر عبرانی میں ایسے حروف ہیں جو عربی کی حلقی آوازوں سے ملتے ہیں: ח (ḥet) عربی ح سے، اور ע (ayin) عربی ع سے۔ لیکن جدید عبرانی کے معیاری تلفظ میں زیادہ تر لوگ ח کو כ والے خ کی طرح بولتے ہیں، اور ע کو א کی طرح، یعنی صرف مصوتہ یا ہلکا سا وقفہ، بالکل ویسے جیسے اردو میں "عین" کا حلقی تلفظ عموماً نہیں ہوتا۔ عبرانی ר عموماً حلق سے نکلنے والا ر ہے، فرانسیسی r جیسا، عربی ر کی طرح لرزتا ہوا نہیں۔ اور عبرانی میں "بھاری" (مُفَخَّم) حروف نہیں: ט کی آواز ת جیسی ہے، اور ק کی ک جیسی۔
سیکھنے والوں کے لیے اس کا اثر دونوں طرف ہے:
- عبرانی بولنے والے جب عربی سیکھتے ہیں تو انہیں نئی آوازیں سیکھنی پڑتی ہیں: بھاری ص ض ط ظ، حلقی آوازیں ح اور ع، اور الگ حروف ث اور ذ۔ یہ وہی آوازیں ہیں جن پر اردو بولنے والوں کو بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔ عربی کی سب سے مشکل آوازوں (انگریزی میں) پر ہماری گائیڈ ان کی مشق سکھاتی ہے۔
- عربی بولنے والے جب عبرانی سیکھتے ہیں تو انہیں زیادہ تر ڈھیل دینی ہوتی ہے: کم الگ حروف، اور ساتھ میں p اور v کی آوازیں، جو عربی میں نہیں ہیں۔
قواعد: بناوٹ کا ایک ہی نقشہ
سب سے گہری مشابہت الفاظ میں نہیں، بلکہ ان کے بننے کے طریقے میں ہے۔
مادہ اور وزن۔ دونوں زبانوں میں زیادہ تر الفاظ تین حرفی مادے سے بنتے ہیں، اور مادے کے گرد مصوتوں کے وزن معنی بدل دیتے ہیں۔ بریٹانیکا کا مضمون مثال کے طور پر عربی مادہ k-t-b ("لکھنا") لیتا ہے۔ عبرانی میں بھی یہی مادہ ہے:
| معنی | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| اس نے لکھا | كَتَبَ kataba | כתב katav |
| کاتب / لکھتا ہے | كاتِب kātib | כותב kotev |
| لکھا ہوا | مَكْتوب maktūb | כתוב katuv |
| ma- + مادہ | مَكْتَب maktab (دفتر، میز) | מכתב mikhtav (خط) |
اردو کے "کاتب"، "مکتوب" اور "مکتب" اسی عربی مادے سے ہیں، اس لیے یہ جدول اردو پڑھنے والوں کو فوراً سمجھ آ جاتا ہے۔
مذکر اور مؤنث۔ دونوں زبانیں مؤنث کو -a کے اختتام سے ظاہر کرتی ہیں: عربی كلب kalb / كلبة kalba، عبرانی כלב kelev / כלבה kalba (کتا / کتیا)۔ دونوں میں "تم" کے لیے مرد اور عورت کے حساب سے الگ لفظ بھی ہیں، جیسا ضمیروں کے جدول میں دکھایا گیا۔
حال میں "ہے" نہیں۔ عربی اور عبرانی دونوں سادہ حال کے جملوں میں "ہونا" کا فعل حذف کر دیتی ہیں، اور دونوں صفت کو اسم کے بعد رکھتی ہیں:
| اردو | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| گھر بڑا ہے۔ | البيت كبير. al-bayt kabīr. | הבית גדול. ha-bayit gadol. |
| بڑا گھر | البيت الكبير al-bayt al-kabīr | הבית הגדול ha-bayit ha-gadol |
| گھر کا دروازہ | باب البيت bāb al-bayt | דלת הבית delet ha-bayit |
| میرا گھر | بيتي baytī | הבית שלי ha-bayit sheli |
حرفِ تعریف پر غور کریں: عربی ال al- اور عبرانی ה ha-۔ آواز الگ، کام ایک، اور دونوں زبانوں میں "بڑا گھر" کہتے وقت یہ صفت پر بھی دہرایا جاتا ہے۔ "گھر کا دروازہ" والی ترکیب (عربی میں iḍāfa، عبرانی میں smikhut) بھی ایک ہی طرح کام کرتی ہے۔ عبرانی بھی عربی کی طرح "میرا" کے لیے -i لگا سکتی ہے (ביתי beyti)، لیکن روزمرہ بول چال میں ha-bayit sheli کہیں زیادہ عام ہے۔
جوڑے۔ عربی کسی بھی اسم کے ساتھ تثنیہ استعمال کرتی ہے: يومان yawmān (دو دن)۔ عبرانی نے تثنیہ زیادہ تر وقت کے الفاظ اور جسم کے جوڑی دار اعضا کے لیے رکھا: יומיים yomayim (دو دن)، עיניים eynayim (آنکھیں)۔
فرق کہاں ہے۔ رسمی عربی میں اعراب کے حالتی اختتام (-u، -a، -i) ہیں، جو عبرانی بہت پہلے کھو چکی ہے۔ عربی افعال کی زیادہ شکلیں ہیں، یہاں تک کہ تثنیہ کے اختتام بھی ("تم دونوں نے لکھا")۔ ان باتوں میں جدید عبرانی کے قواعد سادہ ہیں، اور اس کے روزمرہ الفاظ میں بہت سے الفاظ جدید دور میں بنے یا یورپی زبانوں سے لیے گئے، جیسے קפה kafe (کافی) اور טלפון telefon (فون)۔
حروف کی ایک ہی ترتیب
دونوں حروفِ تہجی ایک ہی قدیم روایت سے آئے ہیں، اور یہ آج بھی حروف کی ترتیب میں نظر آتا ہے۔ عربی حروف کی پرانی ترتیب، جسے پہلے چار حروف کے نام پر ابجد کہتے ہیں، اپنے پہلے 22 حروف میں عبرانی ترتیب ہی پر چلتی ہے:
| عبرانی ترتیب | א ב ג ד ה ו ז ח ט י כ ל מ נ ס ע פ צ ק ר ש ת |
|---|---|
| عربی ابجد ترتیب | ا ب ج د ه و ز ح ط ي ك ل م ن س ع ف ص ق ر ش ت |
اس کے بعد عربی وہ چھ حروف شامل کرتی ہے جو عبرانی میں نہیں: ث خ ذ ض ظ غ۔ آج عربی کی درسی کتابیں ایک اور ترتیب استعمال کرتی ہیں جو حروف کو شکل کے لحاظ سے گروہوں میں رکھتی ہے (ا ب ت ث…)، مگر ابجد ترتیب اب بھی فہرستوں کی گنتی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اردو میں بھی "ابجد" کا لفظ اسی سے آیا ہے۔ اومنی گلوٹ عبرانی رسم الخط کی جڑیں قدیم آرامی حروف میں بتاتا ہے؛ عربی رسم الخط بھی آرامی بنیاد والے حروف سے نکلا ہے، اسی لیے دونوں خاندان رشتہ دار ہیں، چاہے آج اتنے الگ دکھائی دیں۔
دھوکا دینے والے الفاظ
مشترک مادے کا مطلب ہمیشہ مشترک معنی نہیں۔ چند مشہور جال:
| مادہ | عربی | عبرانی |
|---|---|---|
| l-ḥ-m | لحم laḥm = گوشت | לחם leḥem = روٹی |
| b-k-r | بكرة bukra = آنے والا کل (کئی بولیوں میں) | בוקר boker = صبح |
| k-t-b | مكتب maktab = دفتر، میز | מכתב mikhtav = خط |
اور کچھ روزمرہ الفاظ بالکل الگ ہیں: "شکریہ" عربی میں شكرا shukran ہے (اردو "شکریہ" اسی مادے سے ہے) اور عبرانی میں תודה toda؛ "صبح بخیر" عربی میں صباح الخير ṣabāḥ al-khayr اور عبرانی میں בוקר טוב boker tov ہے۔
الفاظ الٹی سمت میں بھی گئے: بول چال کی عبرانی نے عربی سے יאללה yalla ("چلو، چلیں"، عربی يلا سے) اور אהלן ahlan ("ہیلو"، عربی أهلا سے) جیسے الفاظ لیے۔
آمنے سامنے ایک مختصر مکالمہ
یہاں جدید معیاری عربی اور جدید عبرانی میں ایک سادہ گفتگو ہے۔ مشترک الفاظ ism / shem ("نام") اور wāḥid / eḥad ("ایک") تلاش کریں۔
| عربی | عبرانی | |
|---|---|---|
| A: سلام! | مرحبا! marḥaba! | שלום! shalom! |
| A: تمہارا نام کیا ہے؟ (مرد سے) | ما اسمك؟ mā ismuka? | מה שמך? ma shimkha? |
| B: میرا نام سارہ ہے۔ | اسمي سارة. ismī Sāra. | שמי שרה. shmi Sara. |
| A: ایک کافی، مہربانی سے۔ | قهوة واحدة من فضلك. qahwa wāḥida min faḍlik. | קפה אחד, בבקשה. kafe eḥad, bevakasha. |
| B: شکریہ! | شكرا! shukran! | תודה! toda! |
غیر رسمی بول چال کی عبرانی میں "تمہارا نام کیا ہے؟" اکثر איך קוראים לך? eykh korim lekha? ("تمہیں کیا کہہ کر بلاتے ہیں؟") ہوتا ہے، بالکل ویسے جیسے عربی بولنے والے اکثر بولی پر آ جاتے ہیں، مثلاً شامی (لیونٹائن) بولی میں شو اسمك؟ shū ismak?
کیا عبرانی جاننے سے عربی آسان ہو جاتی ہے؟
جی ہاں، اس سے حقیقی سبقت ملتی ہے: مادوں کا نظام، مذکر و مؤنث کے اختتام، "ہے" کے بغیر جملہ اور سینکڑوں رشتہ دار مادے پہلے ہفتے سے جانے پہچانے لگیں گے۔ محنت جن چیزوں پر لگے گی وہ ہیں: جڑے حروف والا نیا رسم الخط، عربی کی اضافی آوازیں، بڑا فعلی نظام، اور جدید معیاری عربی یا کسی بولی کے درمیان انتخاب۔ پہلے کون سی عربی سیکھیں پر ہماری گائیڈ یہ انتخاب آسان بناتی ہے، اور اگر رسم الخط نیا ہے تو عربی حروفِ تہجی جلدی کیسے سیکھیں آپ کو 7 دن کا منصوبہ دیتی ہے۔
ٹکڑے خود جوڑنے کے بجائے رہنمائی والا راستہ چاہیے؟ ہمارا مکمل عربی ویڈیو کورس (انگریزی میں) حروف اور آوازوں سے شروع ہو کر آپ کو آپ کے پہلے حقیقی جملوں تک لے جاتا ہے، بالکل وہیں جہاں عبرانی جیسی بہن زبان کا علم کام آنے لگتا ہے۔